|
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
دل کی بیماری پرانی اور ہے
جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے
ہے بساطِ دل لہو کی ایک بوند
چشمِ پرخوں کی روانی اور ہے
نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے
سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
کیا میرے جاناں کا ثانی اور ہے
اہلِ دل کی انجمن میں آ کبھی
ان کی دنیا یار جانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تیری سادہ بیانی اور ہے
|