در و دیوار ہیں، مكان نہیں
واقعہ ہے، یہ داستان نہیں
وقت كرتا ہے ہر سوال كو حل
زیست مكتب ہے امتحان نہیں
ہر قدم پر ہے اك نئی منزل
راستوں كا كہیں نشان نہیں
رنگ بھی زندگی كے مظہر ہیں
صرف آنسو ہی ترجمان نہیں
دل سے نكلی ہوئی صدا كے لیے
كچھ بہت دُور آسمان نہیں
كل كو ممكن ہے اك حقیقت ہو
آج جس بات كا گمان نہیں
شور كرتے ہیں ٹوٹتے رشتے
ہم كو گھر چاہیے مكان نہیں
خواب، ماضی سراب، مستقبل
اور٫٫ جو ہے٬٬ وہ میری جان٫٫ نہیں٬٬
اتنے تارے تھے رات لگتا تھا
كوئی میلہ ہے آسمان نہیں
شاخ سدرہ كو چھو كے لوٹ آیا
اس سے آگے میری اُڑان نہیں
یوں جو بیٹھے ہو بے تعلق سے
كیا سمجھتے ہو میری زبان نہیں
كوئی دیكھے تو موت سے بہتر
زیست كا كوئی پاسبان نہیں
اك طرف میں ہوں اك طرف تم ہو
سلسلہ كوئی درمیان نہیں